encyclopedia

نبی اکرم ﷺکا سالِ وِلادَت – عام الفیل میں ولادت کی حکمت

Published on: 24-Feb-2023
نبی اکرم ﷺ کا سالِ وِلادَت
نبی اکرم ﷺ کا سالِ وِلادَت
پس منظر و تمہید:اہل عرب اہم واقعات کو سالوں کی پہچان کے لیے یاد رکھتے تھے، اسی وجہ سے واقعۂ فیل حضور ﷺ کی سالِ ولادت کی پہچان بنا۔عرب میں تاریخ نویسی کا پس منظر:قدیم عرب تاریخیں زیادہ تر زبانی یاد رکھتے تھے، اسی لیے تاریخِ ولادت، دن اور مہینے کے متعلق مختلف اقوال ملتے ہیں۔ ہجری تقویم کے آغاز سے تاریخیں باقاعدہ محفوظ کی جانے لگیں۔عامُ الفیل کیا تھا؟عامُ الفیل وہ سال تھا جب بادشاہِ یمن ابرہہ نے ہاتھیوں کے لشکر سے خانہ کعبہ پر حملہ کیا، مگر اللہ نے ابابیل کو بھیج کر لشکر تباہ کردیا۔سالِ ولادت پر جمہور کا مؤقف:ابنِ عباس، ابنِ اسحاق، ابنِ حبان، ابنِ کثیر، قسطلانی اور دیگر مؤرخین کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی ولادت عامُ الفیل میں ہوئی۔واقعۂ فیل اور ولادتِ نبوی ﷺ کا تعلقاکثر اہلِ سیر کے مطابق آپ ﷺ کی ولادت واقعۂ فیل کے تقریباً پچاس دن بعد ہوئی۔ یہ واقعہ آپ ﷺ کی نبوت کی تمہید، نشانی اور ولادتِ مبارکہ کی برکت قرار دیا گیا ہے۔عامُ الفیل میں ولادت کی حکمتعلماء کے مطابق اللہ تعالیٰ نے واقعۂ فیل کے ذریعے بیت اللہ کی حفاظت فرما کر نبیِ آخر الزماں ﷺ کی عظمت اور نبوت کا اعلان کیا۔نتیجہمعتبر روایات، اقوالِ محدثین و کتبِ سیر کی روشنی میں حضورﷺ کی ولادت باسعادت عامُ الفیل میں، واقعۂ فیل کے بعد، جمہور علماء کے نزدیک ثابت اور راجح مؤقف ہے۔
LanguagesEnglishChinese 中文GermanPortuguese

(حوالہ: مفتی سیّد شاہ رفیع الدین ہمدانی، ڈاکٹر مفتی عمران خان، علامہ محمد حسیب احمد، سیرۃ النبی ﷺ انسائیکلوپیڈیا، جلد-3، مقالہ:6، مطبوعہ: سیرت ریسرچ سینٹر، کراچی، پاکستان، 2019ء، ص: 335-341)

رسول مکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا سالِ پیدائش جہان والوں کے لیے باعث افتخار اور سکون و اطمینان تھا کیونکہ صرف انسان ہی نہیں بلکہ تمام ترمخلوقات پر حضور سیّدنا محمد رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallamکے سالِ ولادت سے ہی انعام و اکرام کا سلسلسہ تواتر کےساتھ رونما ہوا۔ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی پیدائش سے متعلق ایک موضوع "سالِ ولادت ِرسالتِ مآب Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam" بھی ہے اور یہاں اسی موضوع کے حوالہ سے تفصیلی کلام درج ہے جس سے یہ بات واضح ہوجائیگی کہ رسول اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کا سال ولادت جمہور آئمہ سیر اور مؤرخین کے نزدیک"عام الفیل" ہے۔

رسول اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے سالِ ولادت کا معاملہ ہو یا تاریخ و یومِ ولادت کا معاملہ ان سب میں ایک بات یاد رکھنا بہت ضروری ہے کہ ان میں اختلافِ اقوال کا ہونا قرینِ قیاس ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب میں تاریخوں اور واقعات کو ذہنی یاد داشتوں میں محفوظ کرنے کی عادت تھی، انہیں لکھنے اور قلمبند کرنے کا کوئی رواج نہیں تھا۔ اسی وجہ سے تاریخی واقعات میں تاریخوں اور دنوں کا فرق مروی ہونے کا امکان ہوسکتا ہے۔ البتہ بعد میں جب ہجری سال کی بنیاد پڑی تب سے تاریخی واقعات کو باقاعدہ تاریخوں سے محفوظ کیا جانے لگا۔ بہر کیف اکثر مؤرخین کے نزدیک رسول اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادتِ باسعادت کا سال وہی ہے جس کو اہلِ مکّہ "عام الفیل" 1 کہا کرتے تھے یعنی ہاتھیوں والا سال کیونکہ اس سال ابرہہ نے ہاتھیوں کے لشکر سے کعبۃ اللہ کو ڈھانے کے لیے مکّہ مکرّمہ میں پڑاؤ کیا تھا لیکن آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت با سعادت کی برکت سے 2 نامراد و برباد ہوکر واپس لوٹا اور اس کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بھی بیان فرمایا ہے۔ 3 رسول اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت باسعادت عام الفیل میں ہونے کا قول حضرت ابن عباس کا بھی ہے۔ 4 مشہور یہ ہے کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam واقعہ فیل والے سال ہی پیدا ہوئے 5 چنانچہ اسی حوالہ سے سیرت ابن ہشام میں منقول ہے:

ولد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم عام الفیل.6
رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam عام الفیل (ہاتھیوں والے سال) میں پیدا ہوئے۔ 7

اسی طرح امام ابن اسحاق رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت باسعادت کے بارے میں اپنی سند کے ساتھ روایت کو نقل کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

عن قیس بن مخرمة قال ولدت انا و رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم عام الفیل وكنا لدین.8
قیس بن مخرمہ سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam عام الفیل کو ہی پیدا ہوئے ہیں اور ہم دونوں ہم عمر ہیں۔

اسی طرح ابن حبان تحریر فرماتےہیں:

ولد النبى صلى اللّٰه عليه وسلم عام الفيل.9
نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallamعام الفیل کو پیدا ہوئے۔

اسی حوالہ سے مزید توضیح کے ساتھ بیان کرتے ہوئے علامہ قسطلانی تحریر فرماتے ہیں:

وقد اختلف فى ‌عام ‌ولادته- صلى اللّٰه عليه وسلم-: فالأكثرون على أنه عام الفيل، وبه قال ابن عباس، ومن العلماء من حكى الاتفاق عليه، وقال: كل قول يخالفه وهم 10
آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کے سالِ ولادت میں اختلاف 11 کیا گیا ہے جبکہ اکثریت کی رائے یہ ہے کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت عام الفیل کو ہوئی ہے۔ یہی ابن عباس Radi Allah Anhuma کا قول ہے۔ بعض اہلِ علم نے اس پر علماء کے اتفاق کو بھی نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ ہر وہ قول جو اس کے مخالف ہے وہ در حقیقیت وہم ہے (اور کچھ نہیں)۔

اب رہی یہ بات کہ عام الفیل میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت باسعادت واقعۂ فیل سے پہلے ہوئی ہے یا بعد میں تو علماء سیر کا کہنا ہے کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam عام الفیل میں واقعۂ فیل کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ چنانچہ اسی حوالہ سے وضاحت کرتے ہوئے شیخ علی بن ابراہیم تحریر فرماتے ہیں:

ولادته صلى اللّٰه عليه وسلم قيل كانت فى عام الفيل، قيل فى يومه فعن ابن عباس قال: ولد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يوم الفيل. وقد يراد باليوم مطلق الوقت فيصدق بالعام، كما يقال يوم الفتح ويوم بدر...وقيل ولد بعد الفيل بخمسين يوما، كما ذھب إليه جمع منھم السھيلى قال بعضھم: وھو المشھور.12
رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت ِ باسعادت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ عام الفیل کوہوئی تھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یوم الفیل کو ہوئی تھی پس ابن عباس Radi Allah Anhuma سے مروی ہے کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت یوم الفیل کو ہوئی ہے۔۔۔اور کبھی یوم سے مطلقاً وقت بھی مراد لیا جاتا ہے لہذا یوں یہ لفظ سال پر بھی صادق آئے گا جس طرح (فتح مکّہ اور بدر والے سال کو) یوم الفتح اور یوم البدرکہا جاتا ہے ۔۔۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت واقعۂ فیل کے پچاس (50) دن بعد ہوئی ہے جیسا کہ اس بات کی طرف ایک مکمل جماعت گئی ہے اور بعض نے تو یہاں تک کہاہے کہ یہی مشہور ہے۔

یعنی معتبر روایات کی بناء پر مؤرخین و علمائے سیر کا عموماً اس پر اتفاق ہے کہ آنحضرت Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت سالِ فیل میں واقعۂ اصحابِ فیل کے پچاس (50) دن بعد ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ دوشنبہ (پیر) کے دن صبح کے وقت ہوئی ہے۔ البتہ اس کے ہر جزو میں اختلاف ہے جس کو تفصیل سے علامہ قسطلانی نےاپنی کتاب "مواہب اللدنیہ"13 میں درجِ ذیل الفاظ میں نقل فرمایا ہے:

مشہور روایت یہ ہے کہ آنحضرت Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam سالِ فیل میں پیدا ہوئے تھے، یعنی اس سال جبکہ یمن کے عیسائی بادشاہ ابرہہ نے مکّہ فتح کرنے اور کعبے کو ڈھانے کے لیے ہاتھیوں کی ایک فوج کے ساتھ مکے پر چڑھائی کی تھی اور خدا کی قدرت سے یہ اصحابِ فیل ابابیلوں کے کنکریاں پھینکنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔ 14 معروف بات ہے کہ جب کسی ملک میں کوئی بڑا واقعہ پیش آجاتا ہے تو وہاں کے رہنے والے مختلف باتوں کا حساب اسی واقعہ سے شمار کرتے ہیں، مثلاً ہندوستان میں پیدائش و وفات وغیرہ بہت سی چیزوں کا حساب سنہ غدر سے لگاتے ہیں۔ اسی طرح مکّہ معظّمہ میں چونکہ اصحابِ فیل کا ہلاک ہونا ایک عجیب واقعہ تھا جس کی یاد مدتوں تک قائم رہی اسی وجہ سے وہاں ہر واقعہ کا حساب اسی سال سے کیا کرتے تھے، اس کے بعد سال ہجرت سے حساب ہونے لگا۔ غرضیکہ آنحضرت Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت کا حساب بھی سالِ فیل سے لگایا گیا ہے اور اس بارے میں حسبِ ذیل مختلف روایتیں وارد ہیں ۔
(الف)......بعض کہتے ہیں سالِ فیل ہی میں ولادت ہوئی ہے۔
(ب).......بعض کہتے ہیں سالِ فیل کے بعد کسی اور سال میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam متولد ہوئے۔
(ج )........بعض کہتے ہیں کہ سالِ فیل سے پیشتر کسی سال میں آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam پیدا ہوئے۔ 15
مگر جیسا کہ اوپر لکھا جاچکا ہے کہ ان تمام روایتوں میں صرف ایک ہی روایت عموماً صحیح خیال کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت سالِ فیل ہی میں واقعہ فیل کے پچاس (50) دن بعد ہوئی 16

ایک روایت جس کو بیہقی نے ذکر کیا ہے اس میں بھی مذکور ہے آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت عام الفیل کو ہوئی ہے چنانچہ مروی ہے:

وسأل عثمان بن عفان قباث بن أشيم، أخا بني يعمر بن ليث: أنت أكبر أو رسول اللّٰه، صلى اللّٰه عليه وسلم؟ فقال: رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم أكبر منى وأنا أقدم منه فى الميلاد...وفى روایة ولد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم عام الفيل و وقفت بى أمى على روث الفيل محيلا أعقله.17
حضرت عثمان ابن عفان نے قباث بن اشیم سے پوچھا جو بنی یعمر بن لیث کے بھائی تھے، کیا آپ بڑے ہیں یا رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam بڑے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam مجھ سے بڑے ہیں جبکہ میری پیدائش ان سے پہلے ہوئی ہے۔۔۔ایک روایت میں یہ زیادتی ہے کہ حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam عامُ الفیل میں پیدا ہوئے تھے جبکہ میری امی نے مجھے ہاتھی کے گوبر پر کھڑا کردیا تھا اس وقت مجھے اسکی سمجھ تھی۔

اسی طرح ابن کثیر رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت کے سال کے بارے میں ایک روایت اوراس بارے میں علماء کا مؤقف بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

قال إبراھيم بن المنذر الحزامي: وھو الذى لا يشك فيه أحد من علمائنا أنه عليه الصلاة والسلام ولد عام الفيل.وعن محمد بن جبير بن مطعم قال: ولد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم عام الفيل، وكانت بعده عكاظ بخمس عشرة سنة، وبنى البيت على رأس خمس وعشرين سنة من الفيل، وتنبأ رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم على رأس أربعين سنة من الفيل.18
ابراہیم بن المنذر لحزامی کہتے ہیں کہ وہ قول جس میں ہمارے علماء میں سے کسی نے شک نہیں کیا یہ ہے کہ رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam عام ُالفیل میں پیدا ہوئے تھے۔۔۔ اسی طرح جبیر بن مطعم سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ حضور Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam عام الفیل میں پیدا ہوئے تھے اور عکاظ کا واقعہ ہاتھی والے سال کے پندرہ (15) سال بعد ہوا تھا اور کعبہ کی تعمیر عامُ الفیل سے پچیسویں (25) سال کے آغاز پرہوئی تھی اور رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی بعثت چالیسویں (40) سال کے آغاز پر ہوئی تھی۔

ان مذکورہ بالا تمام روایات اور علماء سیر مؤرخین کے اقوال سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رسول اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادتِ باسعادت کا سال وہی ہے جس میں واقعۂ فیل پیش آیا تھا اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت کی برکت کی وجہ سے تمام اہلِ مکّہ کو اس عظیم آزمائش سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے نجات دلائی تھی۔

عام الفیل میں مولود ہونے کی حکمت

آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam عام الفیل میں پیدا ہوئے کیونکہ ہاتھی کا واقعہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی نبوت کا مقدمہ اور آغاز تھا جس سے اہلِ مکّہ کو آئندہ اس بات کی طرف توجہ دلانی تھی کہ رسول اکرم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت سے ہی ان کی معاشرت میں کئی طرح سے خوشحالی اور آسودگی میسر آئی ہیں چنانچہ اس حوالہ سے امام ابن قیم تحریر فرماتے ہیں:

لا خلاف أنه ولد صلى اللّٰه عليه وسلم بجوف مكة وأن مولده كان عام الفيل وكان أمر الفيل تقدمة قدمھا اللّٰه لنبيه وبيته، وإلا فأصحاب الفيل كانوا نصارى أھل كتاب، وكان دينھم خيرا من دين أھل مكة إذ ذاك لأنھم كانوا عباد أوثان فنصرھم اللّٰه على أھل الكتاب نصرا لاصنع للبشر فيه، إرھاصا وتقدمة للنبى صلى اللّٰه عليه وسلم الذى خرج من مكة، وتعظيما للبيت الحرام.19
اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam مکّہ مکرّمہ میں متولد ہوئے اور واقعۂ فیل ایک نشانی تھی جس کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی اور اپنے گھر (بیت اللہ) کی تعظیم کے طور پر پیش فرمادیا تھا ورنہ اصحاب فیل نصاریٰ یعنی اہل کتاب تھے اور اس وقت اہلِ مکّہ کے دین کی بنسبت ان کا دین بہتر تھا کیونکہ اہلِ مکّہ بتوں کی پوجا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان (اہلِ مکّہ) کی اہل کتاب کے خلاف ایسی مدد فرمائی کہ جسں میں کسی بندہ کا ذرہ برابر دخل نہیں تھا۔ یہ صرف اس نبی کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی آمد کی خبر تھی جو مکّہ مکرّمہ میں پیدا ہوئے۔ نیز عزت والے شہر (مکّہ مکرّمہ) کی تعظیم کی وجہ سے ایسا ہوا۔ 20

یعنی واقعۂ فیل اور پھر اس سے اہل مکّہ کو بنا کسی تباہی و بربادی کے نجات دینا درحقیقت ولادت نبوی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی برکت کا ظہور اور نبی آخر الزماں Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت کی خبر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اربابِ سیر نے دیگر کئی واقعات کی طرح متفقہ طور پرواقعۂ فیل کو ولادت نبوی Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی نشانیوں میں شمار کیا ہے۔ چنانچہ اس حوالہ سے شیخ یوسف بن اسماعیل نبھانی تحریر فرماتے ہیں:

وقال الامام الماوردى ولما دنا مولد رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم تقاطرت آیات نبوته و ظھرت آیات بركته فكان من اعظمھا شانا واظھرھا برھانا واشھرھا عیانا وبیانا قصة اصحاب الفیل.21
امام ماوردی فرماتے ہیں:جب رسول اللہ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت کا زمانہ قریب آیا تو نبوت کی نشانیاں مسلسل اور اس کی برکتیں ظاہر ہونے لگیں۔ ان میں سے عظیم الشان اور سب سے بڑی نشانی جو مشہور اور زبان زد عام ہے وہ واقعہ فیل ہے۔ 22

اسی طرح اسی عظیم الشان واقعہ کو بیان کرتے ہوئے اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں مکمل سورت نازل فرمائی ہے۔ چنانچہ باری تعالی کا ارشاد مقدس ہے:

أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ 1 أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ 2 وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ 3 تَرْمِيهِمْ بِحِجَارَةٍ مِنْ سِجِّيلٍ 4 فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَأْكُولٍ523
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا، کیا اس نے ان کے مکر و فریب کو باطل و ناکام نہیں کردیا، اور اس نے ان پر (ہر سمت سے) پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے، جو ان پر کنکریلے پتھر مارتے تھے، پھر (ﷲ نے) ان کو کھائے ہوئے بھوسے کی طرح (پامال) کردیا۔

درج بالا تمام اقوال سے یہ رائے معتبر ہوجاتی ہے کہ رسول کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت باسعادت متفقہ طور پر عام الفیل کو ہوئی ہے اور وہ بھی واقعۂ فیل کے معاً پچاس (50) دن بعد۔ اس پر تمام آئمہ سیر اورمؤرخین کا اتفاق ہے اور دیگر اقوال انتہائی قلیل اور نہ ہونے کے برابر ہیں بلکہ وہم ہیں۔ جیساکہ ما قبل میں تفصیلی طور پر شواہد و دلائل کی روشنی میں ذکر کردیا گیا ہے۔ بالخصوص واقعۂ فیل جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی آیا ہے اور علماء سیر نے اس واقعۂ کو رسول کریم Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت کا پیش خیمہ اور آپ Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی نبوت کی اعلی ترین نشانی قرار دیا ہے۔ آنحضرت Sallallah o Alaih Wa aalihi Wasallam کی ولادت کی برکت کی وجہ سے ہی ابرہہ کہ لشکر کے خوفناک حملہ سے اہلِ مکّہ کو بچایا گیا تھا۔


  • 1  عربی میں عام، سال کو کہتے ہیں اور فیل ہاتھی کو چنانچہ عام الفیل یعنی ہاتھیوں والے سال سے مراد وہی اہم واقعہ ہے جو قرآن پاک میں سورۃ الفیل میں مذکورہے۔ اس سے عرب تاریخوں کا حساب کرنے لگے تھے چنانچہ آنحضرت ﷺ کی پیدائش کا حساب بھی اسی سال سے لگایا جاتا ہے۔ ( شیخ احمد بن محمد قسطلانی، المواہب الدنیۃ بالمنح المحمدیۃ (مترجم: محمد صدیق ہزاروی)، ج-1، مطبوعہ: فرید بک اسٹال، لاہور، پاکستان، 2004ء، ص:87)
  • 2  شمس الدین محمد بن ابی بکرابن قیم الجوزیۃ، زاد المعاد فی ھدی خیر العبادﷺ،ج-1، مطبوعۃ: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، لبنان، 1994م، ص:74
  • 3  القرآن،سورۃ الفیل 105: 1-5
  • 4  شيخ احمد بن محمد القسطلانی، المواھب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2009م، ص:73
  • 5  جہاں تک اس قول کا تعلق ہے کہ آپ ﷺ واقعہ فیل کے سال میں پیدا ہوئے اس کے بارے میں علامہ حافظ ابن کثیر نے کہا ہے کہ یہ اکثر علماء کے نزدیک مشہور ہے۔ امام بخاری ﷫کے استاذ علامہ ابراہیم ابن منذر نے کہا ہے کہ اس قول کے درست ہونے کے متعلق علماء میں سے کسی کو بھی شک نہیں ہے، اس کے علاوہ بہت سے حضرات نے لکھا ہے کہ اس پر علماء کا اتفاق و اجماع ہے اور اس کے خلاف جتنے بھی دوسرے قول ہیں وہ سب وہم ہیں۔ (علی بن ابراھیم بن احمد الحلبی، سیرت حلبیہ، (مترجم:اسلم قاسمی)، ج-1، مطبوعہ، دارالاشاعت، کراچی، پاکستان، 2009ء، ص:197)
  • 6  ابو محمد عبد الملک بن ہشام ،السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،مطبوعۃ: دارالکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2009م،ص:128
  • 7  ابو محمد عبد الملک بن ہشام،سیرۃ النبی ﷺ (مترجم:قطب الدین احمد)، ج-1، مطبوعہ: الفیصل ناشران کتب، لاہور، پاکستان، 2006ء، ص:177
  • 8  امام محمد بن اسحاق المطلبی، السیرۃ النبویۃ، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2009م، ص:99
  • 9  ابو حاتم محمد بن حبان التمیمی الدارمی، السیرۃ النبویۃ واخبار الخلفاء،ج-1، مطبوعۃ:دار الکتب الثقافیۃ، بیروت، لبنان، 1417ھ، ص:33
  • 10  شيخ احمد بن محمد القسطلانی، المواھب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2009م، ص:73
  • 11  ایک قول یہ ہے کہ آپ ﷺ کی ولادت باسعادت واقعہ فیل کے پچپن (55) دن بعد ہوئی ہے، دوسروں کے علاوہ دمیاطی کا بھی یہی نظریہ ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ واقعہ فیل کے ایک مہینہ یا چالیس دن بعد آپ ﷺ کی ولادت ہوئی۔ کسی نے کہا کہ اس واقعہ کے دس سال بعد آپ ﷺ پیدا ہوئے۔ (مغلطائی کہتے ہیں یہ قول صحیح نہیں ہے) یہ بھی کہا گیا کہ ولادت مبارکہ واقعہ فیل سے پندرہ سال پہلے ہوئی۔ اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں۔ اصح ترین قول وہی ہے جو متن میں منقول ہے۔ (احمد بن محمد قسطلانی، المواہب الدنیۃ بالمنح المحمدیۃ (مترجم: محمد صدیق ہزاروی)، ج-1،مطبوعہ: فرید بک اسٹال، لاہور، پاکستان، 2004ء، ص:87)
  • 12  ابو الفرج علی بن ابراھیم الحلبی، انسان العیون فی سیرۃ النبی الامین المامونﷺ، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان،2013م، ص:86
  • 13  شيخ احمد بن محمد القسطلانی، المواھب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ، ج-1، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2009م، ص:73
  • 14  یہ ابابیلیں چمکادڑوں کی مثل تھیں جو سمندر کی جانب سے حملہ آور ہوئی تھیں اور ہر ایک اپنی چونچ اور پنجوں میں چنے برابرایک ایک کنکری اٹھا لائی تھیں جو ان کی چونچ اور پنجوں میں سے چھٹ کر ان ہاتھی والوں پر جاگریں اور ان کنکریوں کے لگنے سے بہت سے سپاہی مرگئے۔ باقی ماندہ اس واقعہ کو کعبے کا معجزہ سمجھ کر الٹے پاؤں بھاگ گئے۔ ابرہہ کے جسم پر بھی یہ کنکریاں گریں جس وجہ سے اسے یہ مرض لاحق ہوا کہ اس کے جسم کا گوشت پورے برابر جھڑنا شروع ہوگیا اور اس سے خون وپیپ بہنا شروع ہوگئی اور اسی مرض میں وہ ہلاک ہوگیا۔ (ابو محمد حسین بن مسعود البغوی، معالم التنزیل فی تفسیر القرآن، ج-5، مطبوعۃ: دار احیاء التراث العربی، بیروت، لبنان، 1420ھ، ص:307)
  • 15  پہلے قول کے متعلق تین روایتیں ہیں :
    (1) واقعہ فیل کے ایک مہینے بعد، ......(2)چالیس دن بعد...... (3) پچاس دن بعد۔
    دوسرے قول کے متعلق پانچ روایات ہیں:
    (1) ایک سال بعد،......(2) دو برس بعد، ......(3) تین برس بعد،...... (4) چار برس بعد،...... (5) پانچ برس بعد۔
    تیسرے قول کی صرف دو شاخیں ہیں ۔
    (1) سنین کا تعین نہیں کیا جاسکتا مگر واقعہ فیل سے پیشتر تولد ہوئے۔ (2) واقعہ فیل سے پندرہ برس پیشتر پیدا ہوئے ۔(علی شبیر، تاریخ مولد النبی، مطبوعہ: دکن لارپورٹ، دکن، انڈیا، 1930ء، ص:26-28)
  • 16  علی شبیر، تاریخ مولد النبی، مطبوعہ: دکن لارپورٹ، دکن، انڈیا، 1930ء، ص: 26-28
  • 17  ابو ابكر احمد بن حسين البيهقى،دلائل النبوة،ج-1، مطبوعۃ:دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان، 2008م، ص:77-78
  • 18  ابو الفداء اسماعیل ابن کثیر الدمشقی، البدایۃ والنھایۃ، ج-2، مطبوعۃ:دار احیاء التراث العربی، بیروت، لبنان،1998م، ص:321
  • 19  شمس الدین محمد بن ابی بکرابن قیم الجوزیۃ، زاد المعاد فی ھدی خیر العبادﷺ،ج-1، مطبوعۃ: مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، لبنان، 1994م،ص: 74 -75
  • 20  ایضاً (مترجم: سیّداحمد جعفری)، ج-1/2،مطبوعہ:نفیس اکیڈمی،کراچی، پاکستان،1990ء،ص:99
  • 21  شیخ یوسف بن اسماعیل نبھانی،حجۃ اللہ علی العالمین فی معجزات سیّدالمرسلین ﷺ، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان ،2005م،ص:170
  • 22  ایضاً (مترجم:ذوالفقار علی ساقی)، ج-1، مطبوعہ: ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور، پاکستان، 2013ء، ص:370-371
  • 23  القرآن،سورۃ الفیل 105: 1- 5

Powered by Netsol Online